• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-02-25

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:2


پچھلی قسط میں آپ نے پڑھا کہ تینوں ڈاکو صفدر خان کے بیٹے اکبر کا انتظار کر رہے تھے۔ اکبر کے گھر آنے پر اس کے ساتھ انہوں نے کیا رویہ اپنایا ، اس قسط میں پڑھیں ۔۔۔
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
تینوں بدمعاشوں کو اپنے ہی گھر میں موجود دیکھ کر اکبر خان ششدر رہ گیا
اکبر ، یہ بادشاہ ہیں ، بھیرو بادشاہ !
ان کی مہربانی ہے کہ ہمارے گھر آئے۔ ہمیں خدمت کا موقع دیا
اکبر نے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا اور اندرونی کمرے کی طرف چل پڑا
اے اکبر ! ادھر دیکھو
بابا! میں خاصا تھک گیا ہوں ، سونے جا رہا ہوں اب
اکبر خان مصیبت کا اندازہ کر چکا تھا ، اسلیے گھر کے پچھواڑے سے فرار ہونے کا موقع دیکھ رہا تھا ، مگر ۔۔
سو جانا کچھ دیر بعد لیکن پہلے مہمانوں سے کچھ سلام کلام تو کر لو
صفدر خان نے اس کا راستہ روکا
آپ کہتے ہیں تو پھر ۔۔۔
اچانک وہ مڑا اور ۔۔۔
پاس میں رکھی بندوق اس نے اٹھا لی
ہاتھ اٹھاؤ !
صفدر خان کی جان سوکھ گئی
صحیح اطلاع ملی تھی۔ ہماری ڈکیتی کی خبر پولیس کے اسی چھوکرے نے دی تھی
دی تھی یا نہیں دی ۔۔۔ تم بس اپنے ہاتھ اٹھاؤ ورنہ اپنی زندگی ختم سمجھو
اکبر ! یہ کیا پاگل پن ہے؟
بیوقوفی تو آپ کر رہے ہیں ، بابا !
برسوں سے آپ ان ظالموں کا ساتھ دے رہے ہیں ، لیکن آج ان کے دن پورے ہو گئے
دیوار کی طرف منہ کرو سب۔ بابا انہیں رسی سے باندھ دیں
کیا !؟
زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یا تو میں جیتا رہوں گا یا پھر یہ لوگ۔ سوچ لیں آپ
صفدر خان کا سر چکرا گیا۔ وہ تھر تھر کانپنے لگ گیا۔ تبھی اس کی بیوی رسی لے کر آئی
یہ لو ۔۔ رسی !
بیٹے ! کیا یہی مرضی ہے تمہاری کہ ان مہمانوں کو باندھ ڈالوں ۔۔۔
لیکن صفدر خان جیسے ہی پاس آیا بھیرو نے اسے اپنی گرفت میں پھانس لیا
اکبر !
بازی پلٹ گئی۔ اکبر خان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
سمجھ لے ۔۔۔ تو نے گولی چلائی تو پہلے تیرے بوڑھے باپ کو ہی لگے گی !
پھینک دے بندوق !
اکبر خان لاچار ہو گیا
جگّا ، بندوق اٹھاؤ اور اس کے دونوں ہاتھ باندھ کر لے چلو !
لال سنگھ ، بڈھے اور بڑھیا کو تم سنبھالو ، چلو !
تینوں چپ چاپ ایک گڈھے کے قریب پہنچے جو اکبر خان کے لیے ہی کھودا گیا تھا۔
یہ تیری ہی قبر ہے ، اکبر !
لیکن تیری جان یوں آسانی سے نہیں لوں گا میں
مجھ پر رحم کرو بادشاہ !
جگا اکبر کو گڈھے میں دھکیل کر اس میں مٹی بھرنے لگا
اوں اوں ۔۔
سر چھوڑ کر اکبر کا سارا جسم مٹی میں دبا دیا گیا
بادشاہ ! مجھ بوڑھے پر رحم کرو۔ یہ لڑکا ہی ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ ابھی بچہ ہی تو ہے
لال سنگھ، ان دونوں نمک حراموں کو درخت سے باندھ دو ، بیٹے کی موت خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے
نہیں !
بول اکبر بول ! کیوں گیا تھا بہادر کے پاس؟
تیرے منہ پر تھوکنے !
یہ کہہ کر اکبر نے زمین پر تھوکا
میں تیرے منہ سے سچی بات اگلوا کر رہوں گا
بھیرو بادشاہ نے اس کے سر پر ٹھوکر ماری
تو سن ۔۔۔ بہادر نے 'اتحاد حفاظتی دستہ' تیار کیا ہے اور میں اس کی مدد کر رہا ہوں
اچھا؟ کس قسم کا دستہ ہے یہ؟
دلیر نوجوانوں کا جتھا ہے یہ جنہوں نے مل کر ڈکیتیاں ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے
اچھا؟ یہ بات ہے؟ مگر کیسے؟
تم جئےگڑھ میں ذرا ڈاکا تو ڈال کر دیکھو ، معلوم ہو جائے گا
ہاہاہا ۔۔۔ بہکاوے میں آ گیا تو ؟
کیسے ؟
وہ ایسے کہ بہادر میرے گروہ میں شامل ہونے آ رہا ہے !
بہادر کا باپ خان دلاور جب پولیس سربراہ وشال کے ہاتھوں مارا گیا تھا تو بہادر نے اپنی باپ کی موت کا بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی۔ لیکن پھر وشال کے سمجھانے پر وہ غلط راستے پر چل پڑنے سے بچ گیا تھا۔

0 تبصرے :

Post a Comment