• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-04-25

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:7


معروف فنکار 'عابد سورتی' کے تخلیق کردہ کردار "بہادر" کا دلچسپ تعارف یہاں پڑھئے :
تعارف - بہادر

اس ویب سائیٹ پر بہادر کی کسی کہانی کو اردو میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ اس کہانی کے مناظر [Views] کی کثرتِ تعداد سے ہمیں اس کردار کی مقبولیت کا اندازہ ہوا ہے۔ آج کی اس ساتویں اور آخری قسط کے ذریعے یہ دلچسپ کہانی اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
ہماری کوشش ہے کہ تمام قسطوں کی ایک علیحدہ پی۔ڈی۔ایف [pdf] فائل بنا کر جلد سے جلد پرستارانِ بہادر کی خدمت میں پیش کی جائے۔ بس تھوڑا سا مزید انتظار فرما لیں۔
اور ہاں ۔۔۔ بہادر کی آنے والی دوسری کہانی کی ایک جھلک بھی آپ اسی قسط میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
اب تک کی کہانی :
پچھلی قسط میں آپ نے پڑھا تھا کہ ظالم شاہ کے گاؤں میں داخل ہوتے ہی کس طرح بہادر کے تربیت یافتہ جوانوں نے اسے ناکوں چنے چبوا دئے؟ ظالم شاہ کے ساتھیوں کی تعداد ان حملوں سے اچانک کافی گھٹ گئی ، جس کے سبب وہ غصہ سے بےقابو ہو کر للکارتے ہوئے آگے بڑھا ۔۔۔ اب آپ آگے پڑھیں ۔۔۔
Go to Episode#
(1)
(2)
(3)

بہادر کی آنے والی اگلی کہانی کی ایک جھلک


ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
'اتحاد حفاظتی دستہ' کے جوان بندوقیں اٹھانے والے تھے کہ دھواں چھٹنے لگا اور ان کے دھندلے پیکر ڈاکوؤں کو دکھائی دینے لگ گئے
رک جاؤ ! جو بھی ہلنے کی کوشش کرے گا ، وہ زندہ نہیں بچے گا !
جوان ایکدم سکتے میں آ گئے
کون ہو تم ؟
'اتحاد حفاظتی دستہ' کے جوان !
تمہارا سردار کون ہے؟
بہادر !
بجلی کی سی کڑکتی آواز میں جواب دے کر بہادر چشم زدن میں اپنے آدمیوں کے درمیان سے نکلا اور چیتے کی طرح اس نے ظالم شاہ پر چھلانگ لگا دی
بچے کھچے ڈاکو اپنے سردار کی حفاظت کی بات سوچ بھی نہ پائے تھے کہ حفاظتی دستے کے نوجوانوں نے ان پر دھاوا بول دیا
بندوقیں نیچے ڈال دو تم لوگ !
صورتحال کی سنگینی سے گھبرا کر ڈاکوؤں نے خاموشی سے ہتھیار ڈال دئے
لیکن دوسری طرف ظالم شاہ اور بہادر ایک دوسرے سے برسرپیکار تھے
ڈھشوں
چاہے میں مر جاؤں لیکن تجھے مار کر ہی مروں گا
ڈھڑممم
ٹھککک
ظالم شاہ بہادر کو بری طرح رگید رہا تھا
'احد' کے نوجوان بہادر کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن بہادر نے انہیں پہلے سے ہی منع کر رکھا تھا۔ اس کا ارادہ ظالم شاہ سے اکیلے ہی نپٹنے کا تھا۔
دھڑاک
بہادر اچانک زمین پر گر پڑا
دھڑام م
ظالم شاہ نے اس پر اس طرح چھلانگ لگائی کہ گویا وہ اپنے گھٹیلے بدن کے سہارے اسے کچل کے رکھ دے گا
پششش
لیکن بہادر ہوشیاری سے اچانک دوسری طرف لڑھک گیا
ظالم شاہ اپنے ہی زور میں دھڑام کی آواز کے ساتھ منہ کے بل نیچے گر پڑا
آآآہ ہ
وہ سنبھل کر واپس کھڑا بھی نہ ہو پایا تھا کہ بہادر کی ایک زوردار لات اس کی ٹھوڑی پر پڑی
آآآہ ہ
ظالم شاہ کچھ دور تک زمین پر لڑھکتا چلا گیا لیکن بہادر نے دوبارہ اس پر چھلانگ لگائی
اور یوں ظالم شاہ بہادر کی سخت گرفت میں آ گیا
رسی لاؤ جلد ! ظالم ڈاکو آخر گرفت میں آ گیا !!
بعد میں سارے قیدی اور ان کے ہتھیار پولیس سربراہ وشال کے حوالے کر دئے گئے
بہادر ! واقعی بڑا زبردست کارنامہ انجام دیا ہے تم نے۔ تمہیں حکومت کی طرف سے یقیناً انعام ملے گا
آپ کا شکریہ۔ ویسے مجھے نہیں ۔۔۔ جوانوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ انہیں کیا چاہیے؟ بندوقیں !
اگلے دن گاؤں کا سردار 'احد' کے کیمپ پر دوبارہ آیا
بہادر ! جئے گڑھ کے لوگوں نے اجتماعی فیصلہ کیا ہے کہ جو ایک کروڑ روپیے ظالم شاہ کے لیے جمع کیے گئے تھے ، وہ تمہیں دے دئے جائیں !
فیصلہ نہایت قابل تعریف ہے محترم سردار۔ لیکن میں اس رقم سے گاؤں گاؤں میں مختلف حفاظتی دستے قائم کروں گا !!

0 تبصرے :

Post a Comment