• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-05-21

ملا نصرالدین - جیسی کرنی ویسی بھرنی


کچھ لوگوں کو خواہ مخواہ دوسروں کو چھیڑنے کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی پر ملا نصرالدین جب چراغ خریدنے بازار نکلے تو انہیں وہاں ایک ایسا پڑوسی مل گیا جو انہیں چکمہ دینا چاہتا تھا ۔۔ مگر کیا وہ اپنی چال میں کامیاب ہوا؟ آپ خود پڑھ کے دیکھئے ۔۔۔
ملا نصرالدین

ملا نصرالدین
Ram Waeerkar


ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : سید حیدرآبادی
ایک دن ملا نصرالدین چراغ خریدنے بازار روانہ ہوئے
وہ رہے ملا جی۔ میں انہیں آج ضرور چکمہ دوں گا
یہ چراغ کتنے کا ہے؟
100 روپے!
100 روپے؟ ٹھیک ہے، دیجیے !
نہیں ، رکیے ، میں خریدوں گا۔ اور پیسے بھی بڑھ کر دوں گا
لیکن میں نے پہلے پوچھا تھا!
ٹھہریے ملا جی۔ ہاں جناب ، آپ کتنے میں خریدیں گے؟
دیڑھ سو روپے!
ڈیڑھ سو؟ لیکن ۔۔ لیکن ملا جی تو پہلے آئے تھے یہاں
تو پھر ۔۔ تو پھر میں 200 دوں گا!
ہاں تو ملا جی ، آپ؟
یہ چراغ انہی صاحب کو دے دیجیے
یہ اب 200 روپے میں آپ کا ہو گئی!
میں دوسری دکان دیکھوں گا ، وہاں مجھے صرف پچاس میں مل جائے گا!

0 تبصرے :

Post a Comment