ملا نصرالدین کی باتوں سے کوئی جیت سکا ہے بھلا؟ اس دفعہ انہوں نے ایک دیہاتی گاڑی بان سے اپنا مطلب نکالنے کے لیے جس طرح اسے ششدر کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔ آپ بھی ذرا ملا نصرالدین کی ایسی ذہانت کو ملاحظہ کیجیے ۔۔۔
ملا نصرالدین
Ram Waeerkar

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
ایک دن ملا نصرالدین دور دراز کے ایک بازار کو خریداری کے لیے نکلے
اففف! بہت گرمی ہے اور مجھے ابھی کافی لمبا راستہ طے کرنا باقی ہے
آہاں! ایک گاڑی آ رہی ہے۔ اگر گاڑی والے صاحب لفٹ دے دیں تو کتنا اچھا ہو
اففف! بہت گرمی ہے اور مجھے ابھی کافی لمبا راستہ طے کرنا باقی ہے
آہاں! ایک گاڑی آ رہی ہے۔ اگر گاڑی والے صاحب لفٹ دے دیں تو کتنا اچھا ہو
اوہ! اونٹ گاڑی ۔۔ یہ لوگ تو کافی بدتہذیب ہوتے ہیں۔ یہ مجھے لفٹ نہیں دے گا
سلام جناب۔ کیا آپ مجھے بڑے بازار تک چھوڑ دیں گے؟
کمبخت! کوئی جواب نہیں دے رہا! مجھے نظرانداز کر رہا ہے
صاب! اس کے لیے آپ کو دس دینار دینا ہوں گے!
بازار کی پہلی دکان پر ٹھہرے ایک دوست تک مجھے ایک کوٹ پہنچانا ہے، کتنے پیسے لوگے؟
ہممم ۔۔ دو دینا دے دیجیے۔
سلام جناب۔ کیا آپ مجھے بڑے بازار تک چھوڑ دیں گے؟
کمبخت! کوئی جواب نہیں دے رہا! مجھے نظرانداز کر رہا ہے
صاب! اس کے لیے آپ کو دس دینار دینا ہوں گے!
بازار کی پہلی دکان پر ٹھہرے ایک دوست تک مجھے ایک کوٹ پہنچانا ہے، کتنے پیسے لوگے؟
ہممم ۔۔ دو دینا دے دیجیے۔
یہ رہے آپ کے دو دینار!
شکریہ صاب! لیکن کوٹ کہاں ہے؟
کوٹ تو میں خود پہنا ہوا ہوں۔ اس کوٹ کو میرے ساتھ لے جائیں جناب!
ایں ۔۔۔؟
شکریہ صاب! لیکن کوٹ کہاں ہے؟
کوٹ تو میں خود پہنا ہوا ہوں۔ اس کوٹ کو میرے ساتھ لے جائیں جناب!
ایں ۔۔۔؟


























0 تبصرے :
Post a Comment