• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-03-11

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:4


اب تک کی کہانی :
پچھلی قسط میں آپ نے پڑھا کہ بہادر بھیرو بادشاہ کے اڈے پر اسے اور اس کے گروہ کو ہتھیار ڈال دینے کا مشورہ دینے گیا تھا جس پر بادشاہ نے اپنا سخت ردعمل دکھایا۔ پھر بہادر کے جانے کے بعد بھیرو نے اپنے ایک اور ڈاکو دوست کو بلوایا ۔۔۔
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
نہیں !
تو پھر تم لوگ اپنے گاؤں کا بچاؤ کرو گے کیسے؟
تم آؤ گے تو خود ہی جان لو گے !
بہادر کا چیلنج بھیرو بادشاہ کو گویا طمانچے کی طرح لگا
بہادر !
اکبر کے منہ سے سن کر مجھے یقین نہیں آیا تھا لیکن اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ تم ۔۔۔
میں چاہوں تو تجھے تباہ و برباد کر دوں یا اکبر کی طرح زندہ گاڑ دوں ۔۔۔
تم نے ۔۔۔ تم نے اکبر کو مار ڈالا ؟؟
ہاں !! اور تجھے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے ماروں گا !
مگر ابھی نہیں ! تیرا باپ میرا دوست تھا۔ وہ بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا
لیکن تو ! تیری قسمت میں شاید حرام موت لکھی ہے !
بادشاہ ! تمہیں سمجھانا میرا فرض تھا جو میں نے خیر سے پورا کر دیا۔ اب میں جا رہا ہوں ۔۔ شب بخیر !
شب بخیر
ہے بہرحال نڈر ! اپنے باپ کی طرح !
اپنی بات کہہ کر بہادر وہاں سے لوٹ گیا
بادشاہ ! اس نے ہمیں للکارا ہے ! منہ توڑ جواب دینا ہوگا اب تو !
ٹھہرو ! پہلے اس کی طاقت کا تو پتا لگا لیا جائے
کیسے ؟
ظالم شاہ کو بلواؤ !
اس ظالم کو جو دشمن کا گلا کاٹ کر خون بہانا اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھتا ہے
اسی ظالم شاہ کو جس نے جئےگڑھ کو لوٹنے کی خواہش برسوں سے اپنے دل میں پال رکھی ہے
اگلے ہفتے ظالم شاہ بھیرو بادشاہ سے ملاقات کے لیے آیا
آؤ ظالم پیارے ! کئی دنوں سے تمہاری ہی راہ دیکھ رہا تھا میں !
خیریت ؟ مجھ سے بھلا تمہیں کیا کام آ پڑا ہے بھیرو ؟
چمبل گھاٹی کے سب سے امیر گاؤں پر ڈاکہ ڈالو ظالم !
جئے گڑھ پر؟
ہاں ، بالکل !!
مگر وہ تو تمہارے علاقے میں ہے بھیرو !
بڑی چیز تو دوستی ہے ظالم پیارے ! علاقہ نہیں ۔۔
اچھا ؟ تو کیا تم سچ مچ کہہ رہے ہو کہ میں جئے گڑھ پر ڈاکہ ڈالوں؟
ہاں ! مگر صرف ایک بار !!
مگر یہ بھی تم جانتے ہوگے کہ میں جس گاؤں کو لوٹتا ہوں تو پھر وہ سو سال تک دوبارہ ابھر نہیں پاتا !
دوسری طرف ۔۔ پولیس سربراہ وشال ، 'اتحاد حفاظتی دستہ' کے مرکز پر جوانوں کی تیاری دیکھنے حاضر ہوا۔ بہادر نے جوش و خروش کے جذبے کے ساتھ وشال کو سب کچھ دکھایا
وشال صاحب ، ان لوگوں نے لاٹھی سے حملے کا فن اچھی طرح سیکھ لیا ہے
اور اس دستے نے آمنے سامنے دو دو ہاتھ کرنے ہنر سیکھا ہے
آپ نے جو کراٹے کا ماہر بھیجا تھا ، اسی استاذ نے دلچسپی سے بہت کچھ سکھایا ہے
اچھا بہت خوب۔ وہ کہاں ہے؟
اس وقت تو اسپتال میں ہے
ارے! وہ کیوں؟
مشق کے دوران میرے ایک جوان کے اچانک حملے میں اس کی کلائی ٹوٹ گئی
پولیس سربراہ وشال حیرت کے ساتھ ستائشی نظروں سے یہ سب دیکھتا رہا
یہ پانچوں اصلاً تیر انداز ہیں۔ ویسے کچھ اور کام بھی جانتے ہیں
کچھ اور کام ؟ وہ کون کون سے ؟؟

0 تبصرے :

Post a Comment