• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-02-20

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:1


بہادر کے متعلق یہاں پڑھئے۔ اپنے ڈاکو باپ کی موت کا انتقام لینے کے بجائے وہ قانون کا رکھوالا کیسے بنا یہ کہانی کسی دوسرے موقع پر سہی ، اس وقت "بہادر سیریز" کی وہ کہانی پڑھیں جس میں اس کی قائم کی گئی دفاعی تنظیم کے نوجوان اپنا پہلا معرکہ لڑتے ہیں۔
انٹرنیٹ اور موبائل کے آج کے زمانے میں دیہات اور ڈاکوؤں کا قصہ عجیب تو لگتا ہے مگر ، متحد ہو کر شرپسندوں کے خلاف لڑنے کا اس کہانی میں جو سبق ہے وہ ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
بھیرو بادشاہ ، لال سنگھ اور جگا ، چمبل گھاٹی کے "تین شیطان" مانے جاتے تھے۔ ایک دن وہ تینوں چمبل کے کسی تالاب میں نہا رہے تھے کہ بھیرو کو ایک بات یاد آئی
اس کا کچھ پتا چلا ، جگا ؟
کس کا ؟
ہماری پچھلی ڈکیتی کا سراغ لگانے والے کا۔
اکبر تھا۔ خان صفدر کا بیٹا
ہوں ۔۔
کالج سے پڑھ کر نکلا ہے ۔۔۔
علاقے کی خدمت کا بھوت سوار ہے اس پر !
کیوں؟ کیا سوچا ہے اس کے لیے؟
موت ۔۔!
نہا دھو کر انہوں نے اپنے گھوڑوں کا ایڑ لگائی ۔۔۔ رائےپور کی سمت !
کھانس کھانس کر رات گزارنے والے بوڑھوں نے آدھی رات کے وقت گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں !
تینوں گھوڑ سوار گاؤں کے چوک سے ذرا آگے ۔۔
۔۔ جانے پہچانے گھر کے پاس گھوڑوں سے اترے۔
کون ہے؟
بھیرو بادشاہ !
رات کے سناٹے میں بھیرو بادشاہ کا نام سنتے ہی خان صفدر کانپ اٹھا۔
اس نے فوراً دروازہ کھولا
تیرا بیٹا کہاں ہے خان؟
اکبر خان؟ وہ جئےگڑھ گیا ہوا ہے۔
وہ کہہ رہا تھا کہ بہادر سے ملنا ہے
خان دلاور کے بیٹے سے؟
ہاں !
کب تک واپس آئے گا؟
آتا ہی ہوگا بس ابھی
تب تک ہمارے کھانے کا بندوبست کرو
خان صفدر اندر گیا۔ اس کی بیوی متوقع پریشانی کا سوچ کر گھبرا رہی تھی
یہ ۔۔ یہ لوگ ہم پر ضرور کوئی مصیبت ڈھائیں گے
تم بیکار کی فکر کرتی ہو بیگم۔ میں برسوں سے بادشاہ کا ساتھ دے رہا ہوں
ہوں ں ں ۔۔
بھیرو اور اس کے ساتھی کھانا کھا رہے تھے کہ دور سے کوئی آتا ہوا دکھائی دیا
کوئی آ رہا ہے ۔۔
یہ تو اکبر لگتا ہے!

0 تبصرے :

Post a Comment