• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-02-21

شہ زور نقاب پوش - جنگل کا رکھوالا - قسط:1


شہ زور نقاب پوش یعنی The Phantom کی تصویر یا اس کی کامکس تقریباً ہر بچے نے دیکھی ہوگی۔ کئی سال پہلے اندراجال کامکس نے ہندی اور انگریزی میں The Phantom سیریز کی بہت ساری کہانیاں پیش کی تھیں۔ ان میں سے شاید کسی بھی کہانی کا کہیں بھی اردو ترجمہ نہیں ہوا۔ اب آپ اپنی اس ویب سائیٹ پر پہلی مرتبہ شہ زور نقاب پوش کی دلچسپ اور عجیب و غریب مہماتی کرشماتی کہانیاں پڑھ سکیں گے۔
لیجیے اس سیریز کی پہلی کہانی پیش خدمت ہے ۔۔۔ اس کہانی میں شہ زور اپنے دوست بونوں کو ایک ظالم مجرم کی گرفت سے چھڑا کر ان کی بستی کی رونقیں کس طرح بحال کرتا ہے ، یہ آپ خود پڑھئے ۔۔۔۔
شہ زور نقاب پوش

شہ زور نقاب پوش
Lee Falk

Go to Episode#
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
شہ زور نقاب پوش کی جنگل کی زندگی کی ایک جھلک
شہ زور کے جنگل کی عجیب و غریب باتیں ۔۔ ایک وسیع دلدل میں سانپوں کی رانی
سیاحوں کو راغب کرنے والی جھیل "بالا"
ایک چڑیل "گولی ڈولی"
آئینہ ۔۔ ذرا بتانا کہ میرا ہونے والا شوہر کون ہے؟
درختوں کے آدمی اور جنگل کے گوریلے
شہ زور کے ذاتی جزیرہ "بہار" میں پلنے والا ڈائینوسار "اسٹیگی" اور غاروں کا گوریلا "حجاح"
ہسس۔۔ ہسس
ہجج ہجج
اور شاید سب سے عجیب ۔۔ بونے لوگ!
راجکمار ایتھر ؟
ہاں ، شہ زور
بوڑھے بابا موجو ۔۔ ننھے لوگ کتنے لمبے ہوتے ہیں؟
سنا ہے کہ اتنے لمبے۔ میں نے تو انہیں کبھی دیکھا نہیں
صرف شہ زور نے دیکھا ہے
ایک بار یوں ہوا کہ ۔۔۔
مجھے ننھے آدمی دکھاؤ شیرا
متجسس آرین بھاگا ، اور شہ زور کا پالتو کتا اس کے پیچھے پیچھے۔۔
نشان تازے ہیں ، آرین زیادہ دور نہیں گیا
اوہ ۔۔ ایسا ہی ہو
ایک کشتی دیکھ کر آرین اور شیرا اس میں بیٹھ گئے اور ناؤ موت کی طرف بڑھ چلی ۔۔۔ لیکن شہ زور کے سدھائے ہوئے پرندوں کی اڑانوں نے اسے بچا لیا
ارے دیکھو
ننھے لوگ !
میرے گلے کا ہار ، آرین اسے اپنی کلائی پر باندھ لینا
شکریہ ننھے آدمی
دیکھو ممی ، ننھے آدمی نے مجھے یہ دیا ہے!
بیٹا ، جنگل میں کسی کا گر گیا ہوگا۔ فرہاد ، وعدہ کرو پھر کبھی یوں بنا بتائے نہیں جاؤ گے
مگر سچائی تو صرف شہ زور جانتا تھا ۔۔۔
ایک دن ۔۔۔۔
کیا ہوا شیرا ؟
آگے کچھ ہے کیا؟
بھوں بھوں

0 تبصرے :

Post a Comment