• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-02-26

شہ زور نقاب پوش - جنگل کا رکھوالا - قسط:2


'جنگل کا رکھوالا' کہانی کی شروعات میں آپ نے شہ زور نقاب پوش کے جنگل کے بارے میں جانا ۔۔۔ اب کہانی آگے بڑھتی ہے اور بونوں کی بستی کا شہزادہ ایک بار پھر شہ زور سے ملتا ہے ۔۔۔ اس بار بونوں کی بستی ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہو گئی ہے جس کی تفصیل اس قسط میں شہ زور کو معلوم ہوتی ہے ۔۔۔
شہ زور نقاب پوش

شہ زور نقاب پوش
Lee Falk

(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : عندلیب
راجکمار ایتھر ؟
بڑا شکار دیکھ کر بھوکا تیندوا جھپٹا ۔۔۔
دھڑاک
حیرت ہوئی کہ تم نے اسے بھگا دیا !
خوبصورت مگر بھوکے جانور کو مارنے سے بہتر ہے۔۔ تو ایک بار پھر ہم مل گئے راجکمار ایتھر ؟
ایک بار پھر ۔۔ تم نے مجھے بچایا ۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈنے ۔۔ تم سے مدد مانگنے ہی آیا تھا ۔
ہماری چار عورتوں ۔۔۔ تین سپاہیوں کو غلام بنا لیا گیا ہے ۔۔۔ تہماری مدد چاہیے شہ زور ۔۔۔
کس نے تمہارے لوگوں کو غلام بنا لیا راجکمار ایتھر؟ کہاں ؟
بتاتا ہوں ، دوست !
شہزادی کرینہ اپنی تین سہیلیوں کے ساتھ پھول چن رہی تھی ۔۔
مگر کوئی انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
"انھوں نے بھی شکاری کو دیکھا ، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔"
کرینہ ۔۔!
ٹھائیں ٹھائیں
"انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی ، لیکن دیر ہوچکی تھی"
شکاری نے چڑیوں کو گرا لیا ۔۔۔ گولیوں سے نہیں ، تیروں سے ۔۔۔
آؤ آؤ ۔۔ ننھے منو
خوشی سے بےقابو شکاری نے شہزادی کو جال میں پھانس لیا
اُف ۔۔۔ چوک گیا !
"مگر ایک بچ کر نکل بھاگی !"
"کافی اونچائی پر پہنچ کر اس بہادر لڑکی نے دیکھا" ۔۔۔
"شکاری اپنے شکار کو لے کر تیز آواز والی ایک چیز میں بیٹھ کر اپنے قلعہ میں چلا گیا ۔"
"رات کو ۔۔۔ وہ بہادر لڑکی وہاں گئی ۔۔۔ اور انھیں دیکھا !"
کیا تم سب کو بھوک لگی ہے؟
گڑیا ۔۔ یہ لوگی ؟ ہوہوہو ہاہاہا ۔۔۔
یہ ہے بہادر رانا ۔۔ جس نے آکر ہمیں ساری بات بتائی ۔ شکاری کا نام پاگل ڈیوک ہے
میں نے انھیں دیکھا ہے ، سب ٹھیک ہیں لیکن پنجرے میں ہیں
اس ہتھیار سے ہماری سواری پر حملہ کیا گیا تھا۔
نشیلی گولی! "شکار پکڑنے کے لیے کام میں لائی جاتی ہے" ویسے یہ پاگل ڈیوک ہے کون ؟
ہمیں تو کچھ زیادہ نہیں معلوم ۔۔
اگلی رات میں اکیلا دیکھنے گیا ۔۔
پنجرے میں بڑے بڑے جنگلی جانور ۔۔۔۔
دھاڑڑڑ ۔۔ غرررر

0 تبصرے :

Post a Comment