• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-03-03

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:3


اب تک کی کہانی :
چمبل گھاٹی کے تین ڈاکو بھیرو بادشاہ ، لال سنگھ اور جگا ۔۔۔ رائے پور آتے ہیں تاکہ صفدر خان کے نوجوان بیٹے اکبر خان کو سزا دی جائے۔ اکبر ان پر بندوق تان لیتا ہے مگر چال الٹی پڑ جاتی ہے اور اسے تینوں ڈاکو کھلے میدان میں لا کر اسکے سارے جسم کو مٹی میں دبا دیتے ہیں ۔۔۔ اب آگے پڑھئے ۔۔۔
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
تم کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ بہادر تو 'اتحاد حفاظتی دستہ' کا سربراہ ہے
اگر یہی بات ہے تو میں سربراہ کو تو بعد میں دیکھوں گا ، پہلے اس کے ساتھی ہی سے نپٹ لوں ۔۔ تجھ سے اکبر ! تجھ سے !
اور پھر مجھے اس گاؤں کے باشندوں کو بتانا ہے کہ کیا سزا ملتی ہے ۔۔ پولیس کے مخبروں کو ۔۔۔
بادشاہ کی بات پوری ہونے سے قبل ہی لال سنگھ اور جگا نے اکبر کے سر پر گھوڑے دوڑا دئے
آآہ ہ !
ہائے بیٹے!
بچاؤ ! میرے بیٹے کو بچاؤ
صفدر خان اور اس کی بیوی رحم کی دہائی دیتے ہی رہے مگر بھیرو بادشاہ کا ظلم و ستم جاری رہا
بچاؤ !
ان کی پکار تو سارا گاؤں سن رہا تھا مگر کسی میں مدد کے لیے آگے بڑھنے کی ہمت نہ تھی
ہوووو
بھیرو بادشاہ کے خوفناک ظلم کا شکار ہو کر اکبر خان موقع پر ہی دم توڑ گیا
اکبر خان کی موت کے ساتھ ہی تینوں ظالم اس کی لاش کو وہیں چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں اوجھل ہو گئے
ظالمو ! تم نے میرے اکلوتے بیٹے کی جان لی ہے لیکن خدا قسم ! قدرت کی سزا تمہیں ضرور ملے گی!
تینوں ظالم اپنے اڈے کی طرف بڑھے جا رہے تھے
بات بڑی عجیب ہے!
مجھے یقین نہیں آتا۔ بہادر تو باغی کا بیٹا ہے۔ ہم لوگوں کو کیسے للکار سکتا ہے؟
جب ہم نے اس کا گاؤں لوٹا تھا تب تو اس نے خود ہمارے گروہ میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی
اس سے مل کر ہی اس سے پوچھا جا سکتا ہے
کیا ابھی چلیں اس کے پاس؟
نہیں ! بعد میں دیکھیں گے!
وہ اپنے اڈے کے قریب پہنچے تو اندھیرے میں انہیں کسی آدمی کی شبیہ دکھائی دی
یہ کون ہے؟
جگا نے گولی چلانے کے لیے بندوق سیدھی کی تھی کہ ۔۔۔
ٹھہرو !
کون ہو تم ؟
بہادر !!
بادشاہ تیزی کے ساتھ بہادر کے قریب پہنچا
تم !؟
یہاں کیسے آنا ہوا 'اتحاد حفاظتی دستہ' کے سربراہ صاحب؟
بھیرو بادشاہ نے بہادر پر طعنہ کسا۔
میں دستہ* کی طرف سے گذارش کرنے آیا ہوں کہ تم سب اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دو !
کیا مذاقیہ بات کہی
ہاہاہاہاہا
ہو ہو ہو
سب کے سب ٹھٹھا مار کر ہنس پڑے۔ پھر ۔۔۔
بیٹے خان ، وہ بندوق کیا ہوئی جو تم پولیس چیف وشال پر آزمانے والے تھے؟
وہ پولیس کے پاس ہی محفوظ ہے !
وہ کیوں ؟
میں امن و امان کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور تم سب سے میری گذارش بھی یہی ہے کہ ہتھیار سونپ کر اچھے شہری بن جاؤ!
کیوں لال سنگھ ، کیا خیال ہے؟
بچہ صلاح تو اچھی ہی دے رہا ہے
بات معقول ہے
پولیس سربراہ وشال ہمیں معاف کر دے گا پھر؟
اس کی ضمانت تو نہیں دے سکتا لیکن میں تمہاری ہر طرح مدد کروں گا
باتیں تو خوب بناتے ہو۔ میں اگر ہتھیار نہ ڈالوں تو؟
تو پھر میرے جوان تمہارا مقابلہ کرنے تیار ہیں!
جوان بھی ہیں؟!
ہاں ! 'احد' کے نوجوان!
اور بندوقیں بھی ہوں گی شاید؟

0 تبصرے :

Post a Comment