• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-06-06

سندر بن - اپنی حفاظت آپ


سندر بن کے جنگل کی ایک دلچسپ کہانی پڑھئے۔ چنچل بکری کو اپنے معصوم بیٹے کی بہت فکر رہتی تھی۔ مگر پھر ایک ایسا موقع آیا کہ اسی بیٹے نے اپنی ماں کو جتا دیا کہ وہ اب ہوشیار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی حفاظت آپ کرنے کے قابل بھی ہو گیا ہے۔ کیسے؟ یہ آپ خود پڑھ کے دیکھئے ۔۔۔
سندر بن

سندر بن

(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
کہانی : شیو نارائن سنگھ
تصاویر : بدھا دیو
سندر بن کے ایک دریا کے کنارے بنے خوبصورت گھر میں چنچل نامی بکری اور اس کا بیٹا گلفام امن و سکون سے رہتے تھے
چنچل اپنے بیٹے کو حد سے زیادہ پیار کرتی تھی اور ہمیشہ اسے اپنے قریب ہی رکھا کرتی تھی
۔۔۔ اور اگر کسی کام سے اسے باہر جانا پڑے تو اپنے بیٹے کو گھر کے اندر مقفل کر کے جاتی تھی
ایک دن چنچل کو اپنی بیمار خالہ کی مزاج پرسی کے لیے جانا پڑا
اپنا خیال رکھنا گلفام ، میں سورج غروب ہونے سے قبل واپس آنے کی کوشش کروں گی۔ کسی اجنبی کے لیے دروازہ مت کھولنا
چنچل کی روانگی کے کچھ دیر بعد ہی ۔۔
آہا ! چنچل تو اپنے موٹے تازے بیٹے کو گھر چھوڑ گئی ہے۔ آج رات روسٹ بکرے کے ڈنر کی توقع رکھی جا سکتی ہے
بھیڑیے نے اپنی آواز بدل لی
میرے پیارے پوتے ! دروازہ کھولو ! میں تمہارا دادا ہوں اور تم سے ملنے آیا ہوں
یہ تو وہی خوفناک بھیڑیا لگتا ہے جس کے متعلق ماں نے مجھے خبردار کر رکھا ہے۔ میں اس کی چال میں نہیں آؤں گا
پیارے دادا جان۔ میں آپ کی آواز سن کر بہت خوش ہوا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ بات کرنا ، کھیلنا چاہتا ہوں۔ لیکن پچھلا دروازہ تو باہر سے مقفل ہے اور سامنے والے دروازے کی چٹخنی کافی اوپر لگی ہوئی ہے
ٹھیک ہے بیٹا ، میں دھکا دے کر کھولنے کی کوشش کرتا ہوں
دادا جان ، یہ دروازہ بہت مضبوط ہے اور آپ جیسے معمر بزرگ سے کھلنا مشکل ہے۔ آپ کسی لوہار سے لوہے کی کوئی سلاخ مجھے لا کر دیں تو میں اندر والی چٹخنی کھول دوں گا
معمر بزرگ؟ بیوقوف بچہ کہیں کا۔ اسے اپنا نوالہ بنانے کے لیے مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا اب !
بہتر ہے بیٹے۔ میں بس یوں گیا اور یوں لایا ۔۔۔ انتظار کرو۔
بھیڑیا لوہار کے پاس دوڑا دوڑا گیا
میں ضرور دوں گا لوہے کی سلاخ۔ اگر تم مجھے کھیت سے شہد کا کوئی چھوٹا چھتہ لا کر دو
بھیڑیا شہد حاصل کرنے کے لیے کھیت کی طرف بھاگا جہاں ایک کسان سے اس کی ملاقات ہوئی
جناب ! کیا آپ مجھے شہد کا کوئی چھتہ دینا پسند کریں گے؟
بالکل ! کیوں نہیں بھلا؟ لیکن بات یہ ہے کہ میں آج بہت تھک گیا ہوں ، ذرا میرے کھیتوں میں پانی ڈال دو ، میں اتنی دیر میں کچھ آرام کر لوں گا
بھیڑیا کڑی دھوپ میں کام کرنے لگا
معلوم نہیں تھا کہ کھانے کے لیے اتنی محنت کرنا پڑے گی
اسی دوران چنچل گھر واپس لوٹ آئی
ارے گلفام بیٹے ، یہ کیا کر رہے ہو؟
بھیڑیا میرے پیچھے ہے ماں لیکن میں نے بھی اسے ٹھکانے لگانے کی ایک نادر ترکیب سوچ رکھی ہے
گلفام نے اپنے منصوبے سے ماں کو واقف کرایا
واہ بہت خوب میرے ہوشیار بیٹے۔ میں گڑھا کھودنے میں اپنے نوکیلے سینگوں سے تمہاری مدد کروں گی
ادھر کھیت پر ۔۔۔
یہ لو شہد کا چھتہ ، اب تم کام ختم کر کے جا سکتے ہو
شکر ہے۔ میں تو سمجھا تھا کہ یہ مجھ سے سارا دن مسلسل کام لے گا
بھیڑیا لوہار کو شہد دینے کے لیے فوراً اس کے پاس گیا
یہ لو بھائی لوہے کی سلاخ ، یہ بہت مضوط بنائی گئی ہے
میرے پیارے پوتے۔ میں تمہارے لیے لوہے کی سلاخ لے آیا ہوں ، یہ دیکھو یہ رہی
بہت بہت شکریہ دادا جان
جاؤ ماں جلدی سے اس پردے کے پیچھے چھپ جاؤ
پھر گلفام نے اچانک جیسے ہی دروازہ کھولا ، بھیڑیا ویسے ہی تیزی سے جھپٹا اور ۔۔۔
آآآہ ہ ہ
دھڑاک
یہ لو بدمعاش جانور ۔۔ اور یہ بھی ، یہ بھی !
اماااں ۔۔ او ۔۔۔ مر گیا
پھر منصوبے کے مطابق چنچل اپنی سینگیں اٹھا کے دوڑی
آآآآ ، بچاؤ !
ای ی ی ی ک ک ک
میرے پیارے گلفام بیٹے، آج تم نے اس بھیڑیے کو اچھا سبق سکھایا ہے
ہاں ماں ، اب آپ میرے متعلق فکر کرنا چھوڑ دیں ، اب آپ کو یقین آ گیا ہوگا کہ میں بخوبی اپنی حفاظت خود آپ کر سکتا ہوں

0 تبصرے :

Post a Comment