• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-09-01

اردو کڈز کارٹون - اردو کامکس کی مقبول ویب سائٹ


اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے بارے میں بہت بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن جب عملی اقدامات کی بات آتی ہے تو ادبی و تفریحی پروگرامس پر مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے، بچوں کے ادب کے بارے میں تو عملی اقدامات شاذ و نادر ہی ملیں گے۔
ریاض سعودی عرب میں مقیم حیدرآبادی نوجوان قلمکار سید مکرم نیاز نے بچوں کے ادب کے متعلق انگریزی صحافی شمس عدنان علوی کی تحریر سے متاثر ہو کرعصرحاضر کی نو عمر و نوجوان نسل کو اردو کی جانب راغب کرنے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنی ویب ڈیولوپنگ کمپنی "تعمیر" کے توسط سے انٹرنیٹ پر اردو زبان میں کارٹون اور کامکس کی ویب سائٹ
www.urdukidzcartoon.com
اجراء کیا۔
حیدرآباد کے ممتاز شاعر جناب رؤف خلش کے فرزند سید مکرم نیاز کی اس پراجکٹ سے دلچسپی، ان کی محنت لگن اور جستجو کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صرف چھ ماہ کے مختصر عرصہ میں کارٹون کی دنیا کے ممتاز کرداروں پر مشتمل ڈیڑھ سو سے زائد کہانیوں کو قارئین کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ مختلف زبانوں کے ممتاز کارٹون کرداروں کی کہانیاں اس ویب سائٹ پر پیش کی گئی ہیں۔ ان میں بلو، بنی خرگوش، بھولو بلا، بہادر،بی موٹی، جادوگر سرکار، جانی ، سندربن، شہ زور نقاب پوش، ملا نصیرالدین، میاں نٹ کھٹ، ننھے میاں، ٹام اور جیری، پنکی، پپو اور ببلو، چاچا چودھری، چندو، چھوٹے نواب، ڈونالڈ بطخ، گوفی کتا اور گھسیٹا شامل ہیں۔
عنقریب مزیدار کئی کردار جیسے سوپر مین ، بیٹ مین، اسپائیڈر مین، فلیش گارڈن، مکی ماؤس، سراغ رساں مونچھ والا ، فولادی ، موٹو اور پتلو، ٹویٹی ، شکاری شمبو وغیرہ بھی شامل کئے جائیں گے۔

انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے صحافی شمس عدنان علوی کی جو تحریر سید مکرم نیاز کے لئے تحریک کا باعث بنی اس میں لکھا گیا تھا کہ کھلونا جیسے مقبول عام بچوں کے رسالہ کی مسدودی کے بعد شائد ہندوستان میں کوئی ایسا بچوں کا رسالہ باقی نہیں رہا جو کارٹون اور کامکس کو "کھلونا" جیسی ترجیحی بنیاد پر شائع کرے۔
حالانکہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے علاوہ حکومتی سطح پر ہمارے ملک میں 16 اردو اکیڈیمیاں قائم ہیں۔ لیکن تعلیم اطفال کے اس شعبے کی جانب نہ تو ان اداروں نے دلچسپی دکھائی اور نہ خود اردو دانوں نے ان اداروں کو اس موضوع کی طرف متوجہ کرنے کو ضروری سمجھا۔ جبکہ دوسری جانب انٹرنیٹ جیسے میڈیا سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے انگریزی اور دیگر زبانوں کے قلمکاروں اور قارئین نے آج کی نسل کی تعلیم و تربیت کی خاطر پچھلے دور کی تمام مشہور و مقبول کارٹونی کہانیاں اور کامکس کو ڈیجیٹائز کر کے انہیں مختلف ویب سائٹس اور بلاگس پر پھیلا دیا ہے۔

تعارفی فقرہ"8 سے 80 سال کے بچوں کے لئے" سے مزین "اردو کارٹون دنیا" کے خالق سید مکرم نیاز کے مطابق
www.urdukidzcartoon.com
کے ذریعہ اردو زبان میں بچوں کی دلچسپی پیدا کرنے انہیں مطالعہ کی جانب راغب کرنے کے مقصد سے اس ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹ کارٹونی کہانیوں میں بچوں کی فطری دلچسپی کے باعث انہیں رنگوں اور الفاظ کی شناخت، گفتگو کا سلیقہ، ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ، مطالعہ کی جستجو، علم کی طلب، اخلاق و کردار کی درستگی، نیک و بد کی پہچان، دوست احباب سے سماجی روابط کی برقراری، فرصت کے لمحات کا تعمیری استعمال، جیسے بےشمار مرحلوں سے گزارتے ہوئے بچوں کی فطری صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔

سید مکرم نیاز نے مزید کہا کہ تعلیمی اغراض و مقاصد کی خاطر شروع کی جانے والی اس ویب سائٹ کا بیشتر مواد (کارٹون و کامکس کی تصاویر) کو انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس سے حاصل کر کے اردو میں ڈب کیا جاتا ہے۔ لہذا تمام کردار اور کہانیوں کے کاپی رائٹس متعلقہ اداروں اور منصفین کے نام محفوظ ہیں۔
ان کارٹونی کہانیوں کے زبان و بیان کے ذریعہ بچوں اور نوعمروں کے ذہنوں میں اردو اور مسلم تہذیب و ثقافت کااحیاء اور اس کی برقراری سید مکرم نیاز کے ارادوں میں شامل ہے۔
بیسویں صدی کے ستر اور اسی کی دہائی میں دہلی کے مقبول عام اشاعتی ادارہ"شمع" سے بچوں کا رسالہ "کھلونا" شائع ہوتا تھا، اس میں غیر ملکی کارٹون کہانیوں کو اردو زبان و تہذیب میں ڈھال کر پیش کیا جاتا تھا جیسے 'Richie Rich' کو چھوٹے نواب 'Little Lotta' کو بی موٹی اور 'Dennes the menace' کو ننھے میاں کے نام دیئےگئے تھے۔ اردو کارٹون کی اس ویب سائٹ پر بھی اس روایت کو برقرار رکھاگیا ہے۔
آج انٹر نیٹ اور ٹیلی ویژن کے دور میں بھی کارٹون اور کامکس پر مبنی کہانیاں، سیریلز اور فلمیں ہی بچوں کی دلچسپی کا محور ہوتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر اردو کے بشمول کئی زبانوں میں کارٹونی ویڈیوز موجود ہیں، اس سے سمعی و بصری علم تو حاصل ہوتا ہے لیکن مطالعہ کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی ہے۔ سید مکرم نیاز نے مزید بتایا کہ عربی کے بعد اردو زبان میں دینی مواد زیادہ پایا جاتا ہے مستقبل میں اس سے استفادہ کرنے کے لئے ایک نسل کو تیار کرنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے اردو زبان میں بچوں کی دلچسپی کی کتابیں اور رسالے بہت کم ہیں۔اور جو ہیں ان میں بھی کارٹون یا کامکس پر مبنی کہانیاں نظر نہیں آتیں، انٹرنیٹ پر اس سے قبل ایسی کوئی ویب سائٹ تخلیق نہیں کی گئی تھی جس میں اردو زبان میں کارٹونی کہانیاں شامل ہوں۔ اسی خلاء کو پر کرنے کے لئے سید مکرم نیاز نے اس ویب سائٹ کی ضرورت کو محسوس کیا۔
ہندوستان کی بہ نسبت امریکہ ، برطانیہ، پاکستان اور خلیجی ممالک میں
www.urdukidzcartoon.com
کو زیادہ لوگ ویزٹ کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کے خالق سید مکرم نیاز کی خواہش ہیکہ اس ویب سائٹ سے ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔

***
بحوالہ : ہفت روزہ "گواہ" - 31/اگست تا 6/ستمبر

1 تبصرہ :

azeem abbas نے لکھا : 21/12/15 13:56

ببت عمدہ

Post a Comment