• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-04-06

بہادر - خونیں معرکہ - قسط:6


اب تک کی کہانی :
پچھلی قسط میں آپ نے بہادر اور پولیس چیف وشال کی گفتگو کا حال پڑھا تھا جبکہ پولیس چیف کی واپسی کے فوراً بعد بہادر کو ڈاکو ظالم شاہ کا پیغام ملا جس میں ایک کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کا ذکر تھا۔ گاؤں کا سردار رقم تیار کر کے لے آیا لیکن بہادر نے اسے روک دیا۔ اب آپ آگے پڑھیں ۔۔۔
یاد رہے کہ اگلی قسط (ساتویں قسط) اس دلچسپ کہانی کی آخری قسط ہوگی۔
Go to Episode#
(1)
(2)
(3)
(4)

ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : مکرم نیاز
بہادر کچھ دیر تو گاؤں کے سردار کو بغور تکتا رہا ، پھر اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔۔
سردار ، آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں
آج ظالم شاہ ہے ، کل بھیرو بادشاہ آئے گا ، پرسوں کوئی اور ڈاکو دھمکی دے گا ۔۔ آخر اس طرح تاوان دے کر ہم کس کس ظالم سے چھٹکارا پاتے رہیں گے؟
بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، لیکن ۔۔
سردار کی بات پوری ہونے سے قبل ہی 'اتحاد حفاظتی دستہ' کے ایک پہریدار نے کسی گھر کی چھت سے خفیہ اشارے کی مخصوص سیٹی بجا دی
ٹو ٹو ۔۔۔ ٹو ٹو ۔۔ ٹووو
سردار ، یہ آواز ہمارے جوانوں کا انتباہ ہے کہ ظالم شاہ کا گروہ قریب آ پہنچا ہے ۔۔ جلد آئیے، میں آپ کو چھپنے کی جگہ بتا دیتا ہوں !
ظالم شاہ اور اس کا گروہ دھول کے بادل اڑاتے ہوئے تیزی سے پل کی طرف بڑھ رہے تھے
سنا ہے کہ کچھ چھوکرے گاؤں کو بچانے کا بندوبست کر رہے ہیں! ۔۔۔ پتا نہیں کیسے ؟
بہادر نے دوربین کے ذریعے ظالم شاہ اور اس کے گروہ پر مسلسل نظر جما رکھی تھی جبکہ 'احد' کے جوان پیڑوں اور ریت کی بوریوں کی آڑ میں چھپے انتظار کر رہے تھے
کتنے دور رہ گئے ہیں وہ بدمعاش اب؟
پل کے دوسری طرف ہیں اب
کیا تمہیں صاف دکھائی دے رہے ہیں؟
نہیں۔ لیکن اندازہ ہو رہا ہے کہ کوئی پچاس کے لگ بھگ آدمی ہیں۔ اور سب بندوقوں سے لیس ہیں
خدا قسم ! مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تمہارے نوجوان آخر کس طرح ان کا مقابلہ کر سکیں گے؟
ظالم شاہ اور اس کے آدمیوں نے پل پار کیا مگر پھر وہیں رک گئے۔
تار کی باڑھ ؟ یہ تو نئی چیز نظر آ رہی ہے ظالم ! پہلے موجود نہیں تھی یہ ۔۔
بچپنا ہے گاؤں کے ان بچوں کا۔ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ کچی ڈور ہمیں گاؤں میں داخل ہونے سے روک دے گی ۔۔۔ ہاہاہا ۔۔ احمق کہیں کے !!
جمعہ خان ، اس باڑھ کو توڑنے یا ہٹانے کا وقت نہیں ، پھلانگ جاؤ گھوڑوں سمیت ۔۔ ہمیں بس کسی صورت گاؤں میں داخل ہونا ہے ۔۔
چلو !!
لیکن ۔۔۔ باڑھ سے پہلے خفیہ خندقیں بھی تھیں ۔۔ لہذا گھوڑے جیسے ہی باڑھ کے قریب پہنچے ، زمین گویا گھوڑوں کے پیروں تلے کھسکی اور کئی گھوڑے اپنے اپنے سوار سمیت گڑھے میں گر پڑے
آآہ ہ اوہ ہ ای ی ی ی بچاؤ اماااں
دوسری طرف ۔۔۔
خدا کی قسم ۔۔ خندق کھودنے والی بات تو تم نے مجھے بتائی ہی نہیں تھی
سردار صاحب ، یہ تو ابھی شروعات ہے ، آگے آگے دیکھئے ہوتا کیا ہے
بہادر نے ہاتھ اوپر اٹھا کر تیر اندازوں کو تیار رہنے کا مخصوص اشارہ کیا ۔۔ اور پھر اگلی کاروائی شروع ہوئی
ادھر خندق میں زخمی پڑے آدمیوں اور جانوروں کی پکاریں گونج رہی تھیں۔ ظالم شاہ اپنے آدمیوں کی کراہیں سن کر بےچین ہو اٹھا
خدا کی قسم ! اب تو میں اس گاؤں کا نام و نشان مٹا کر رکھ دوں گا !!
بچاؤ آآآ ہ ہ ہ
ظالم شاہ کے ہوش ابھی ٹھکانے بھی نہیں لگے تھے کہ تیروں کی بوچھاڑ ہونے لگی
آآہ ہ اوہ ہ ہ بچاؤ آآآآآ
بچاؤ کرو سب اپنا
ظالم شاہ کے آدھے آدمی تو خندق میں گر کر ہلاک یا زخمی ہو چکے تھے اور کچھ تیروں سے گھائل ہو کر جاں بلب تھے اور جو قسمت سے بچ گئے انہیں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے
تیر ادھر سے آ رہے ہیں مگر حیرت ہے کہ ایک بھی آدمی نظر نہیں آتا
بچے ہوئے سب ڈاکو اپنے اپنے گھوڑوں کی آڑ میں ہو گئے
دیکھو
دھائیں دھائیں
اور اچانک تار کی باڑھ کے قریب دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ دھواں ایسا کثیف تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا
ظالم ! بچوں کا ایسا بچپنا تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ابھی ہمارے سر سلامت ہیں ، بھلائی اسی میں ہے کہ لوٹ چلیں !
نہیں !!
یہ زندگی اور موت کی لڑائی ہے جمعہ ! خون کی آخری بوند ختم ہونے تک مجھے لڑنا ہے
غصہ نے شاید تمہاری عقل ماؤف کر دی ہے ظالم ! دیکھتے نہیں کہ 52 میں سے ہمارے صرف 9 لوگ زندہ بچے ہیں
دھویں کے پردے میں حفاظتی دستے کے جوان آگے بڑھے
دوستو ! ہوشیاری سے خندق میں گری بندوقیں اپنے قبضے میں کر لو اور پھر میرے دوسرے پیغام کا انتظار کرنا
اور ادھر ۔۔
ظالم ! تمہیں لڑنا ہے تو خود لڑو اور مرو ۔ افسوس کہ میں اس بیوقوفی میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔
جمعہ خان یہ کہہ کر پلٹا ہی تھا کہ ظالم شاہ نے اسے گولی مار دی
بزدل ! غدار !
دھائیں آآآہ ہ
پھر ظالم خان نے اپنی چال طے کر لی
میرے بہادر اور نڈر ساتھیو ، اس دھویں سے ہمیں فائدہ اٹھانا ہے۔ سب الگ الگ ہو جائیں۔ اب دشمن سے ہمارا دو بدو مقابلہ ہوگا

0 تبصرے :

Post a Comment