• Help
  • General Knowledge
  • Our Chat
  • Creators
  • Characters
  • Introduction
  • Home
  • Email Subscription
  • BookMark
  • Disclaimer

تازہ ترین کہانیاں

2012-04-13

شہ زور نقاب پوش - جنگل کا رکھوالا - قسط:7


شہ زور نقاب پوش کے کردار کا دلچسپ تعارف یہاں پڑھئے :
تعارف - شہ زور نقاب پوش

اس ویب سائیٹ پر شہ زور کی کسی کہانی کو اردو میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ اس کہانی کے مناظر [Views] کی کثرتِ تعداد سے ہمیں اس کردار کی مقبولیت کا اندازہ ہوا ہے۔ آج کی اس ساتویں اور آخری قسط کے ذریعے یہ دلچسپ کہانی اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
ہماری کوشش ہے کہ تمام قسطوں کی ایک علیحدہ پی۔ڈی۔ایف [pdf] فائل بنا کر جلد سے جلد پرستارانِ شہ زور کی خدمت میں پیش کی جائے۔ بس تھوڑا سا مزید انتظار فرما لیں۔
اور ہاں ۔۔۔ شہ زور کی آنے والی دوسری کہانی کی ایک جھلک بھی آپ اسی قسط میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
اب تک کی کہانی :
پچھلی قسط میں آپ نے پڑھا کہ شہ زور نے اکھاڑے میں گینڈے سے اپنے مقابلے کے دوران اچانک اپنی چال چلی اور سیدھے بدمعاشوں کے درمیان پہنچ گیا پھر اسے بونے راجکمار کی چڑیوں کے ذریعے اپنی پستولیں بھی مل گئیں ۔۔۔ اس کے بعد کیا ہوا ۔۔۔ اب اس آخری قسط میں کہانی کا اختتام پڑھئے ۔۔۔
شہ زور نقاب پوش

شہ زور نقاب پوش
Lee Falk

Go to Episode#
(1)
(2)
(3)

شہ زور نقاب پوش کی آنے والی اگلی کہانی کی ایک جھلک


ٹرانسکرپٹ || ترجمہ : عندلیب
چلیں ۔۔ شہ زور کے پاس چلتے ہیں!
پہلے اس اکھاڑے کے سارے دروازے کھولو
کھول ۔۔ دو ۔۔
اب ۔۔ سارے پنجرے کھول کر تمام جانوروں کو آزاد کرو
اوہ ۔۔ کھول دو !
جانوروں نے پنجروں سے آزاد ہوتے ہی جنگل کی طرف دوڑ لگائی
آزادی ۔۔ اپنا جنگل اپنی رہائش ۔۔
اب ۔۔ تمہاری باری !
مجھے بھی آزاد کرو لٹیرے ! جتنی دولت چاہیے بولو ، میں ابھی فراہم کر دوں گا
یہ سب باتیں جج سے کہنا
ٹھہرو ۔۔ مجھے تم عدالت میں لے جا رہے ہو؟ مگر کس لیے؟
ننھے لوگوں کے خلاف تمہارے جرم کی سزا کے لیے
تمہارا مطلب ۔۔ یہ الکٹرانک گڑیا؟
گڑیا نہیں، زندہ لوگ ہیں یہ ۔۔ بونے!
تم نے انہیں سچ مچ گڑیا سمجھا تھا کیا؟
خدا حافظ شہ زور۔ تمہاری مدد ہمیشہ یاد رہے گی۔ بہت بہت شکریہ
ہاں! بولنے والی الکٹرانک گڑیا ۔۔ جنہیں کسی نے پرندوں پر بٹھا دیا تھا۔ کیا تم نے بٹھایا تھا؟
ہاں۔ یہ 'گڑیاں' کسی اور دنیا کی ہیں ۔۔ جیتی جاگتی دنیا
ایسی پاگل پن کی بات میں نے کبھی نہیں سنی!
پاگل پن والی بات تو یہ تھی کہ تم نقلی ہو کر خود کو اصلی ڈیوک بتاتے رہے
تمہیں کس نے بتایا؟
ہم نے !! تمہارا بڑا بھائی اصلی ڈیوک تھا جو ہمارا مالک بھی تھا
تو یہ پاگل ڈیوک ، اصل ڈیوک ہے ہی نہیں؟
نہیں۔ یہ تو بین الاقوامی مجرم ہے۔ اس کا بڑا بھائی تھا اصلی ڈیوک۔
وہ ایک رحم دل اور شریف آدمی تھا۔ اور تم اس کے پاس چھپنے کے لیے گئے تھے
بکواس بند کرو بدمعاش! کافی بول چکے ہو تم !
بین الاقوامی مجرم ۔۔ پولیس سے بچ کر بھاگ رہا تھا ۔۔ بڑے بھائی نے پناہ دی ۔۔۔
بھائی ! مجھے بچا لو ۔۔۔
ٹھیک ہے ، یہیں قیام کرو تم
تلاش ہے
516-738
خطرناک مجرم
اور تم نے اس کی مدد کا یہ انعام دیا کہ اسے ہی ۔۔۔
نہیں! میں نے اسے مارا نہیں۔ بڑھاپے کے سبب اس کی طبعی موت واقع ہوئی تھی
یہ بات تو اب عدالت ہی طے کرے گی!!

0 تبصرے :

Post a Comment